ڈر

ڈر

سنو

تمہیں کس سے کس کا ڈر ہےاب 

زندگی نہ جانے کب سے

 تمہاری راہ تکتی ہے

صبحوں کو بھی شکایت ہے

جگنو اداس ہیں سارے

۔۔

۔

سنو

اب چاہو اگر تو جائو بھی

زندگی جس کو کہتے ہیں

کچھ دن تو اس کو پائو بھی

قیمت چاہے جو بھی ہو

تم مجھ سے کہو چکائوں گا

اب ایسی بھی کیا بات ہے دوست

ایسے بھی تو مرتا ہوں

ویسے بھی مرجائوں گا

۔۔

۔

سنو

تم کو ڈر تو  لگتا تھا

میرے بنا تنہائی سے

 تم کو ڈر تو لگتا تھا 

مرے ٹوٹ کر بکھرنے سے

اور یہ سب

یہ سب تو کب کا ہو چکا

۔۔

۔

چلو آئو

 میں تمہیں بتاتاہوں

وہ جگہیں سب دکھاتا ہوں

وہ جو صحیح سے تم نے سنا نہیں

وہ موڑ پھر سناتا ہوں

۔

چلو آئو

آئو میرا ہاتھ تھا مو

آنکھیں کرو بند کہ ہم نے 

بہت دورجانا ہے

۔۔۔

۔۔

۔

سنو

بند آنکھوں کو کھولو اب

ہاں غور سےتم دیکھو اب

یہ ڈائو کی وہی سیڑہیاں

جہاں میں نے تم کو دھکیلا تھا

تنہائی کی ایک وادی میں

زندگی کی طرف لیکن

۔

ہاں چوٹ تو تم کو آنی تھی

اور چوٹ تو تم کو آئی تھی 

تم بھی کسقدر معصوم ہو ناں  

اس کو ہی کیا پتا نہیں 

جس نے چوٹ لگائی تھی

۔

ہاں چھوڑ کر گیا تھا میں

 جہاں چھوڑ کر گیا تھا میں

 ابتدابس وہیں پہ تھی 

زندگی کی ، تنہائی کی

۔۔

۔

سنو

اور یہاں سے

ذرا کچھ دن پہلے اور

 ذرا سی ہی مسافت پر

ہاں اسی کالج کے اندر ہی 

وہ مقام ہے

 کہ جہاں پر میں

۔

چلو آئو تمہیں دکھا تا ہوں

دو پہر کا تھا سمے اور  

یہاں سے چلے تھے پوائنٹس سارے

تم اسطرف سے آئیں تھیں

اسطرف سے

ہم دونوں فقط اس ایک دن

اوپر جانے کے بجائے

اس طرف کو آئے تھے

کینٹین اور فوٹو کاپی کی

 دوکان کے پاس سے گزرتے ہوئے

یہاں گرلز کینٹین کے جالی والے

بند دروازے کے باہر آکر

دھوپ چھائوں میں بیٹھے تھے

بس یہیں پر اسی ایک دن

میں جانتا ہوں تمہیں پتا نہیں 

میں جانتا ہوں 

میں ٹوٹ ٹوٹ کے بکھرا تھا اور

 آج تک ہوں بکھر رہا 

(23rd April 1996. Arena) 

۔۔

۔

سنو

وہ جس جس کا تھا ڈر تم کو

وہ سب تو کب کا ہو چکا

 وہ کونسا ہے ڈر تم کو

جو جینے اب  نہیں دیتا 

۔۔

۔

سنو 

اپنے اس ڈر سے تم

کسی روز مجھے ملائو تو

مجھے قسم ہے تمہاری ہی

تمہارے ہر ایک ڈر کو اب 

میں جان سے مار ڈالوں گا 

کیونکہ

زندگی نہ جانے کب سے

 تمہاری راہ تکتی ہے

صبحوں کو بھی شکایت ہے

اور جگنو اداس ہیں سارے