تین عورتیں 

عقل،قسمت اور زندگی

Heart Touching Urdu Poetry 

 تین عورتیں 

عقل،قسمت اور زندگی

 وقت کے سفر میں

بہت ملیں تھیں منزلیں

 

کہیں سے  جسم گذر گیا 

کبھی جذبات پرپڑی ضرب 

اور 

کہیں روح بنی تھی تماش بیں

 

اک دن ایک مندر کے پاس سےہوا گزر

اس کی گھنٹیاں بجتیں تھیں بارہا 

اور وہ بھی اکثر پہروں تک 

 

مجھےاندر بلا لیا گیا

ایک عورت ملی

نام اس کا تھا عقل 

کشادہ تھا اس کا ماتھا اور

تھی بہت سنجیدہ بھی

 

کہنے لگی

کچھ بات ہے اور اہم بھی

فقط تم سے جو کرنی ہے

میں نے کہا کہ کہہ ڈالو

تم کوجو بھی کہنا ہے

 

کہنے لگی

 

سمجھو!

وہ جس کے تم

 خود ہی خود کو کیئے بیٹھے ہو

اس نے تو بس یہی کہنا ہے

 

“ بے وجہ سب وہ تھا

 کل میں نے کہا جوتھا 

 

تم ہی ہو جو پاگل ہو

سینے سے بات لگا لیتے ہو

 

مری زندگی میں کیا نہیں 

بس تمہاری کوئی جگہ نہیں 

 

میں سنتا رہا بات اس کی

 

ذرا توقف کے بعد وہ 

پھر سے یوں گویا ہوئی

 

“وہ جو تمہارا عشق ہے ناں

وہ مرے ہی دَر کی داسی ہے

اس کے پاس ہے سب کچھ اور

تمہاری ہستی پیاسی ہے

 

تم بھی کچھ ہوش کے ناخن لو

مری پوجا کے پہنو کپڑے اور 

کچھ توممکن بات کرو”

 

میں نے پوچھا

بس! 

کہنے لگی

 ہاں.

 

“میں نے تمہاری بات سنی

اب تم بھی اک احسان کرو

 جو تمہاری خاص پجارن ہے

وہ میرے دل میں بستی ہے

تم اس کو ذرا بچا کر رکھنا

ان گھنٹیوں کی آوازوں سے

جو یہاں سے ذرا ہی دور 

محبت کے مندر میں بجتی ہیں

 

 تم جانتی ہو ناں ایسا کیوں

 

عشق تے مجنوں کر دندا اے

 محبت وی پاگل کر دندی اے”

 

پھرپیشانی کو اس کی چوما اور

میں مندر سے دور چلا آیا

 

 

بہت دنوں کے بعد مگر 

وہ دن بھی گزرے تھے کہ جب

اک مسجد مزار کا ہو کر رہا 

دن مہینے یا سال تھے گزرے

ایک دن مجھے قسمت ملی

تھی تو بہت خوبصورت لیکن 

ہاتھوں کو چھپاتی تھی

 

کہنے لگی

“ما نا کہ عشق کا صلہ نہیں

کیا تھا جو تمہیں ملا نہیں!

 

تمہارے لیئے میں لڑتی رہی

تمام عمر دعائوں کی ڈھال لیئے 

 

پھر بھی تم خاموش رہے

پھر بھی تم ناراض رہے

کیوں مجھ سے خفا تم ہو

مرے ہو کر بھی جدا تم ہو

بتلائو بھی کہ میں تھک چکی”

 

میں نے چپ چاپ اسے دیکھا 

جو ناں جانے کب سے

چھپ چھپ کے مجھ کو تکتی تھی

 

بہت سے خیال ذہن سے گذرے

کہا مگر فقط اتنا

“جو میں نے کچھ کہا ناں تو

گمراہیوں کے بازار میں بھی

اور مسجد اور مزار میں بھی

بہت تیز چلے گی آندھی اور

کتنے ہی پردے گر جائیں گے

اور وہ جو آج چھپے بیٹھے ہیں

حقیقت سن کر مر جائیں گے”

 

قسمت کی پیاری آنکھوں میں

امید کی بجھتی لو تھی اور

پلکوں پر کچھ پانی تھا

میں نے اس کے ہاتھوں کو

 دیکھنے کی فرمائش کی

اس نے ہاتھ کیئے جوآگے تو

زخموں سے لہو لہان تھے وہ

 

صاف دِکھتا تھا

 

جو پھولوں کو راہ میں بچھاتی رہی ہے

وہی راہ سے کانٹوں کو ہٹاتی رہی ہے

 

مگر یہ بھی تو سچ ہے ناں کہ 

 

عطائوں کی مالا ایک طرف

اور دِل کا چھالا ایک طرف

 

میں نے اس کے ہاتھوں کو

احتیاط سے چوما دیر تلک

اور وہاں سے دور چلا آیا

 

 

پھرصدیاں بیتیں ادھر ادھر

بہت دنوں کے بعد مگر

ایک گوردوارے سے ہوا گزر

کسی نے یہ پیغام دیا کہ

زندگی کو ہے اشتیاق تمہارا

اس سے بھی ذرا ملتے جائو

اک کونے میں کھڑی تھی نازنیں

وہ چپ چاپ مجھ کو تکتی تھی

میں چپ چاپ اس کو تکتا تھا

وہ سوال سارے پڑہتا تھا

جو اس کی غزال آنکھوں میں

تَہ بہ تَہ اتر رہے تھے

میں نے اس سے کہا تو اتنا

“ہو سکے تو مجھے معاف کرنا”

 

وہ کہنے لگی

“تمہاری باتوں کے اندازسے اب

کسی اور کی خوشبو آتی ہے”

 

میں نےآنکھوں کو چومنا چاہا

 اس نے لیکن دور ہٹایا

 

پھر نہ جانے کتنی مدت

وہ بھی تھی خاموش کھڑی 

اور میں بھی تھا خاموش رہا

میں جانے لگا

تواس نے کہا

 

“عشق  دا   ڈھاڈا  

رنگ  ہوندا  اے

پر چڑہن چڑہان دا

ٹنگ   ہوندا   اے

 معشوق  وی  ہوئیے

تاں  پائیے  پنگڑے 

عاشق تاں عشق دی

منگ ہوندا اے”

دل سے کہیں آواز تھی آئی

“جینوں عشق دی دھونی چڑھ جائے

او درویش ،فقیر، ملنگ ہوندا اے

کوئی مندر،کوئی مسجد، کوئی گوردوارے

رب تاں سب دے سنگ ہوندا اے”

  

 میں چلا آیا کہ راستے

مسافر کے انتظار میں

نہ جانے کب سے بھٹک رہے تھے۔۔۔۔۔